اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ٹی وی پر قوم سے اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ پنامہ لیکس کے معاملے میں تحقیقات میں اگر ان پر الزامات ثابت ہو گئے تو وہ خاموشی سے گھر چلے جائیں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جمہوری ممالک کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ چیف جسٹس کو ایک خط لکھ کر اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کریں ۔ کہا جارہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو خط ارسال بھی کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے پنامہ لیکس کے معاملے پر دوسری بار قوم سے خطاب کیا ہے۔
پنامہ لیکس میں نواز شریف کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہونے کے بعد انہوں نے پانچ اپریل کو اپنے خطاب میں ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا جسے اپوزیشن نے مسترد کر دیا تھا۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
پنامہ کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی دو ہفتے قبل افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں کی طاقتور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات سامنے آئے تھے۔
تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے اس ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم کے بچے مریم، حسن اور حسین کئی کمپنیوں کے مالکان یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔ پنامہ لیکس میں پاکستان کے بعض دوسرے سیاستدانوں، ان سے وابستہ لوگوں اور کاروباری شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169